21/10/2024
وہ ایک صوفے پر کسی شہنشاہ کی طرح براجمان تھا ۔۔
کمرے کی دیواریں میزائلوں نے اڑا دی تھیں ، اس کا دایاں ہاتھ بری طرح گھائل تھا اور بہتے لہو کو روکنے کے لیے اس نے ایک لوہے کی تار اپنے ایک ہاتھ اور دانتوں کی مدد سے اپنے بازو کے گرد کس کر لپیٹ لی تھی ۔۔
اس نے زخمی حالت میں اپنے چہرے کو عرب رومال سے کس کے باندھ لیا تاکہ دشمن اسے پہچان نا پائے اور زندہ گرفتار نا کر سکے ۔۔
دوبدو لڑائی اور میزائل سے عمارت کو تباہ کرنے کے بعد دشمن نے ایک ڈرون اڑایا کہ عمارت کے اندرونی حصے کا جائزہ لے سکے ، اس ساٹھ سال کے بوڑھے کی اس قدر دہشت تھی کہ زرہ بکتروں میں ملبوس دشمن کے فوجیوں کو اس کی لاش کی تلاش کے لیے اس عمارت کے اندر جانے کی جرات نہیں تھی ،
وہ زخمی حالت میں زمین پر لیٹنے کی بجائے کسی شہنشاہ کی طرح اس صوفے پر براجمان تھا ،
اس کی شان اور تمکنت دشمن کو للکار رہی تھی ۔۔
وہ اس بڑھاپے میں کہیں چھپنے کی بجائے اپنے ساتھیوں کو فرنٹ سے لیڈ کرتا ہوا آخر میں تنہا زندہ بچا تھا ۔۔
دشمن کے ڈرون نے اس کی تصویریں لیں ۔۔
کمزور پڑتے ہاتھوں میں سکت ختم ہوتی جا رہی تھی ۔۔
اس بوڑھے مزاحمتی نے اپنی مزاحمت کو برقرار رکھا اور اس ڈرون کو اپنی زندگی کی ایک آخری چھڑی ماری ۔۔۔
وہ لکڑی کی آخری چھڑی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی ۔۔دشمنوں کے سینوں میں زلزلہ برپا ہو گیا ۔۔
اس کی وڈیو جاری کرنے والے یہ نا سمجھ سکے کہ لاکھوں کروڑوں لوگوں کے دلوں میں اس بوڑھے مزاحمتی کی قدر اور عزت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ۔۔
اس نے اپنے دیس اور اپنی عزت کا سودا نہیں کیا ۔۔
دشمن کے ڈرون پر آخری کمزور چھڑی کسی طاقتور بلڈوزر کی طرح ان کے سینوں کو کچلتی ہوئی نکل گئی ۔۔
اس بوڑھے مزاحمتی کو ایک اور میزائل مارا گیا
اور ساٹھ سال کا یحییٰ سنوار اپنے آپ کو شہیدوں کے درجوں میں رقم کروا گیا ۔۔
دنیا کی اول اور بہترین مزاحمتی تحریک کا سربراہ میدان جنگ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا ۔
ہم نے صحابہ کی جنگیں نہیں دیکھیں ۔۔ہم نے ان کے قصے سنے ہیں ۔۔مگر ہم نے قبلہ اول کی حفاظت پر مامور ایک بہترین مجاہد کے آخری لمحے دیکھ کر اندازہ لگا لیا ہے کہ یحییٰ سنوار بلا شبہ ان مجاہدین کا جانشین تھا جنہوں نے خیبر میں اپنے دشمنوں کا خاک چٹائی تھی ۔
آج قبلہ اول یحییٰ سنوار پر نازاں ہے ۔
Michelle Adam