24/06/2019
پیشئہ وکالت کے زوال کے اسباب
آج کل روز وکلاء کے بارے میں افسوسناک خبریں معمول بنتی جا رہی ہیں,کوئی دن نہیں جاتا جب پاکستان کے کسی نہ کسی علاقے سے وکلاء مخالف انفرادی و اجتماعی خبریں الیکٹرونک,پرنٹ اور سوشل میڈیا کی زینت بنتی نظر آتی ہیں اور ایک تائثر عام عوام میں رائیج کرنے کی کوشش نظر آتی ہے کہ وکلاء معاشرے کا غیر مہزب طبقہ یے
وکلاء غنڈے,بدمعاش ہیں اور پھر وکلاء گردی کی اصطلاح بھی زد عام ہو چکی ہے,,,,,,,,,, کوئی بھی معاملہ جس میں وکلاء کانام آئے عام عوام فورا کہہ اٹھتی یے کہ قصور وکلاء کا ہوگا,,,,,,,,,,,
ایسی ایسی باتیں الحفیظ الامان,,,,,,,,,,,,
آخر ایسا کیوں ہے ?
وہ وکلاء جنہیں.کریم آف دی سوسائیٹی کہا جاتا تھا,,,,,,,,, لفظ دانشور شروع ہی سے پہلے فقط وکلاء کیلیئے مختص تھا,,,,,,,,,
وہ جو عاجز و درماندہ,بے کسوں,پسے ہوئے طبقے کو بچانے والے مسیحا تھے ان پہ بد معاشی,غنڈہ گردی کے لیبل کیسے لگے?
بہت ہی دکھ بھری داستان ہے,,,,,,,, بطور سیئنیر ایڈوکیٹ میں نے بہت سے اتار چڑھائو دیکھے,,,,,,,,,,, اور بحثیت ایڈوکیٹ میرا غیر جانبدارانہ مشاہدہ یہ ہے کہ جہاں وکلاء کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ بھی خاص مقاصد کیلیئے ہو رہا ہے اور صریحا زیادتی ہے وہیں تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ اس کے اصل محرک ہم خود ہیں,,,,,,,,,,,,,,,,
(1) حقیقی وکلاء کی کمی :
اس مقدس پیشے میں آنے کے بعد پتہ چلا کہ اگر کسی بھی بار میں کل دس ہزار وکلاء رجسڑرڈ ہیں تو پہلے تو ان میں دو چار ہزار گھوسٹ وکلاء ہونگے جنکا وکلالت سے دور دور تک تعلق نہیں.ہوگا
وہ وکلاء بار کی سیاست کے جگادریوں کے جعلی ووٹ ہیں وہ سب یا تو کاروبار کرتے ہیں یا نوکری پیشہ ہونگے,,,,,,,,,, ان جعلی ووٹوں کے زریئے بارز پہ قابض مافیا جنکی زیادہ تر تعداد چیمبرز میں ریلیف لینے ,بزریئہ تشدد اپنے مزموم مقاصد حاصل کرنے,بارز کو کرپٹ سیاستدانوں کیلیئے بطور ڈھال بنانے سمیت سنگین نوعیت کے جرائیم اور خود بزریئہ کرپشن وکلاء کا فنڈ ہڑپ کرنے میں ملوث ہوتے ہیں,,,,,,,,, آپ بتائیے کبھی کسی بار میں فنڈ کے استعمال کا آڈٹ ہوا ہے?,,,,,,,,,,,, جب آپکے لیڈران کی ابتدا کرپشن سے ہوگی تو وہ پڑھے لکھے وکلاء پیدا کرنے کا سسٹم بنائیں گے?
یہ لوگ حق گو لوگوں کو جھوٹی کمپلینٹس میں پھنسا کر بزریئہ بلیک میلنگ ان کا منہ بند کر دیتے ہیں,,,,,,,,,
عام وکیل تقریبا دہاڑی دار بنکر رہ گیا ہے ,,,,اگر ایک دن چھوٹی موٹی دہاڑی نہ لگی تو اس معاشی انارکی کے دور میں اسکا جینا,محال ہو جاتا ہے اور عملا وکلاء میں اکثریت انہیں دہاڑی دار وکلاء کی ہے یہی وجہ ہے کہ گھوسٹ وکلاء کے بعد یہ طبقہ مجبورا گندے رائیج کرپٹ مافیاز کا ساتھ دینے پہ مجبور ہے,,,,,,,, یہی طبقہ ہے جسکے بارے میں تاثر عام ہے کہ وہ فقط بریانی اور سالانہ فیس پر ووٹ دیتا ہے
پھر یہی طبقہ آئے دن اپنے کلاءینٹس سے ,,,,,,,مجسٹریٹس,,,وغیرہ سے لڑ جھگڑ کر بار آتے ہیں اور پھر انکی.غلطیوں کو کور دے کر سیاسی پنڈت معاملہ رفع دفع کروا دیتے ہیں یوں وہ زر خرید غلام بنا لیا جاتا ہے,,,,,
(2 ) بد دیانت گروپ,,,,,,,, اکثر مشایدے میں آیا ہے کہ وکلاء میں بہت سی کالی بھیڑیں گھس چکی ہیں جو باقاعدہ کریمنلز کے گروپس سے منسلک ہو تے ہیں,,,,,,, عام پبلک کی زمینیں ہتھیانا,,,,,
بد معاشی ,غنڈہ گردی حتی کے قتل تک کرنا کروانے میں.ملوث ہوتے ہیں اور وکالت کی آڑ لے کر جرائیم کرتے ہیںباور بدنام پیشہ ہوتا ہے
کس جج,پولیس والے کی ہمت کہ انکے خلاف کاروائی کرے? ہر وکیل اور جج کا کردار بار اور بنچ ,وکلاء سے چھپا نہیں.ہوتا مگر کوئی حق بات نہیں.کرتا,,,,,,,, کیوں ووٹ لینا ہے,,,,,,,, کیوں وکیل ناراض ہو جائے?,,,,,,,,,, بھئی وکیل ہے آپ اسکے خلاف کیس لڑیں گے تو اسی کی کیٹیگری کے نام.نہاد وکلاء مظلوم اور آپ دونوں پر عدالت میں تشدد
کریں گے,,,,,,,,, جو حق کا ساتھ دے گا گالیاں.کھائے گا,,,,,, غداری کا سرٹیفیکیٹ بھی پائے گا ہوسکتا ہے لائیسینس بھی معطل کر دیا جائے
ایسے میں.مظلوم کو کون انصاف دے?
میری پریکٹس میں میرے پاس کثیر تعداد میں.وہ کیس آئے جنہیں خود اپنے وکلاء نے لوٹا اور برباد کر دیا,,,,,,,مخالف سے مل جانا تو بہت معمولی بات ہے,,,,,,,
ایک سیئنیر وکیل صاحب نے کیس ہار دیا کلاءینٹ سے کہا مخالف نے اپیل کی ہے اسکی فیس بھی لے کر کھا لی بعد میں عرصے بعد پارٹی کو پتہ چلا وہ پٹھان تھے قتل کرنے آگئے,,,,,,,, جسطرح انکی جان بچی ایک الگ کہانی ہے,,,,,,, ایک وکیل صاحب ایک.بیوہ کو ملا پینشن کا کمیوٹ جو کل متاع تھی 5 لاکھ نکلوا کر کھاگئے,,,,,,
پچھلے دنوں ایک کمپنی کا دیوالیہ نکلہ اسکے ورکرز کو سندھ ہائی کورٹ نے ریلیف دیا,,,,,,,,,, وکلاء نے نام.نہاد یونین عہدیدارز کی ساز باز سے کروڑوں بنائے اور غریب ورکرز رل گئے,,,,,,,,,,
کسی نے پراپرٹی کا کیس دیا آپ نے جعلی ایگریمنٹ بنا کر مخالف کیا کرتا خود ہراپرٹی ہتھیا لی,,,,,,,,,, وغیرہ وغیرہ ,,,,,,یہ بہت چھوٹی امثال ہیں.کیا یہ وکلالت ہے?
پچھلے دنوں ایک الحاج کئی عمرے,حج,نمازیں,ماتھے پہ محراب,,,,,
پانچ وقت نمازیِں پڑھنے والے وکیل صاحب نے مسجد کے جعلی کاغزات بنوائے اور لاکھوں رشوت دی,,,,,,,,, جس سے علاقے میں لاء اینڈ آرڈر پیدا ہو گیا اور مسجد بھی سیل,,,,,,,,,, کیا یہ وکالت ہے?
پھر معاشرہ آپ کی تعریفیں کرے یا بد دعائیں دے?
(3) قانون و علم سے دوری:
وکلاء کا بنیادی ہتھیار علم ہے,,,,,,,,,, قانون کا علم,,,,,,, اسکے بعد معاشرے کے جملہ مروج علوم,,,,,,,,, لیکن افسوس صد افسوس
آج کا وکیل شارٹ کٹ, ٹائوٹ ازم,,,,,,, علاقائیت, تعصب, لسانیت زات پات کی بناء پر ریلیف لینا چاہتا ہے چاہے اسے اسکے لیئے کتنا ہی گرنا پڑے,,,,,,,, چونکہ ججز بھی انہی وکلاء سے بنتے ہیں تو وہ بھی اسی سسٹم کا حصہ ہیں,,,,,,,,, اسلیئے بزریئہ.کرپشن وہ کیس جیت بھی جاتے ہیں.پیسہ بھی کما لیتے ہیں مگر نہ تو اچھے انسان,اچھا وکیل ,اچھا شہری بن پاتے ہیں,,,,,,,, وہ جسے ایک دانشور بننا یوتا ہے وہ گھٹیا درجے کا ٹائوٹ بنتا یے جو معاشرے میں ناانصافی, انارکی کا باعث بنتا ہے,,,,,,,,,,,
یاد رکھیئے انسان کی.معراج علم سے ہے آقا کریم پر پہلی وحی ہی اقراء با اسم ربک الزی خلق سے شروع ہوئی,,,,,,
ہمارے شعبے میں,,,,, خصوصا
READER IS THE LEADER,,,,,,,,
(4) قانونی اخلاقیات کا فقدان: وکالت کے سلیبس میں Leagle Ethics بطور مضمون شامل ہے مگر افسوس سے ماننا پڑے گا ہم اسکا جنازہ نکال چکے ,,,,,,,,, آج کل بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ بھائی ہم تو وکیل ہیں ہمتو ہر ایک کا کیس لڑیں گے,,,,,,,, ایک سیئنیر قابل ترین فوجداری وکیل نے مرنے سے چند دن قبل زناء کے کیس میں کہا جسے سن کے میں کانپ گیا تھا کہ
ہم تو رحمان کے بھی وکیل ہیں اور شیطان کے بھی وکیل,,,,,,,,,
یہاں تک سنا کہ چند وکیل تو کریمنلز کی ضمانت اس وعدے پہ کرواتے تھے کہ اگلہ ڈاکا مار کر انہیں فیس دے دی جائے,,,, العیاض بااللہ,,,,,,,,,
کراچی کے ایک وکیل جنہیں قانون کی الف ب کا پتہ نہیں ان کا لطیفہ بہت مشہور ہے کہ کیس ڈسمس ہونے پہ بچارے دہاتیوں سے بولے جج صاحب نے کہا ہے آپ بڑے وکیل ہیں آپ کا کیس ہائی کورٹ چلے گا,,,,
خوش ہو جائو مٹھائی بانٹو اور ہائی کورٹ وڈی کورٹ آ پیسے لائو,,
(5) منفی مقدمہ بازی Negative Litigation
پنجاب میں یہ تاثر عام ہے کہ بندہ ایک کیس لے کے جائے تو وکیل اسکے دس کیس بنا کر کلاءینٹ کو کیسز کے چکر میں ایسا پھنساتے ہیں کہ اسکی نسلیں.بھگتتی ہیں,,,,,, خود میری اس موضوع پہ وکلاء سے بات یوئی تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ کلائینٹس پراپر فیس نہیں دیتے اور اگر صحیح فیس مانگی جائے تو دہاڑی دار کیس لے جاتے ہیں اسلیئے کم.فیس پر کیس لے کر اسکے انڈے بچے پیدا کروائے جاتے ہیں اور وہ معاملات جو فقط دیوانی نوعیت کے ی
ہوتے ہیں انہیں فوجداری بنا دیا جاتا ہے جس سے قتل و غارت اور معاشرہ برباد ہوتا ہے
(6) کیسز کی طوالت: یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عدالتوں میں کیسز سال ہا سال چلتے ہیں,,,,,,,, جبکہ یہ بھی کڑوا سچ ہے کہ اس طوالت میں عدالت ,جج, عملے,,,,,سسٹم کیساتھ ساتھ وکلاء بھی برابر کے شریک ہیں,,,,,,, بعض ہمارے بھائی کہتے ہیں کیس لمبے چلیں گے تو کچھ نہ کچھ آتا رہے گا,,,,,, ہوسکتا ہے لمبا چلنے سے مزید کیس بچے دے گا وغیرہ وغیرہ
(7) بارز کا وکلاء ویلفیئر نہ کرنا:
اکثر فقط بار کے عہدیداران کے چمچوں کڑچھوں,من.پسند افراد کو نوازا جاتا ہے اور عام غیر جانبدار وکیل فقط لولی پاپ پاتا ہے,,,,
حتی کہ بڑی کمپنیوں کے کروڑوں روپوں کی ماہانہ وظیفے بڑے بڑے نام چین لاء کمپنیاں ,سیاسی جگادری کھا جاتے ہیں مگر عام وکیل محروم,,,,,,,,, پاکستان بھر میں یہ بڑی بڑی لاء فرمز مافیاز کی شکل اختیار کر چکی ہیں,,,,,,,, ہر ہائی کورٹ میں اور سپریم کورٹ میں انکے چیمبرز کے لوگ جج, پراسیکیوٹرز, ایڈوکیٹ جنرلز اور ڈسٹرکٹ عدلیہ میں بھی انہی کے بندے بطور ججز,,,,,, حتی کہ عملہ کی اکثریت انہی کے مرہون منت ہوتی ہے تاکہ کرپٹ سسٹم من پسند فیصلے ,اربوں روپے ملتے رہیں
(7) سیاسی مداخلت:
جملہ بارز اور سیاستدانوں.کا گٹھ جوڑ الگ ہوتا ہے خود ہر سیاسی پارٹی اپنے علاقے میں اپنے منظور نظر بار عہدیدار لانے کیلیئے جملہ وسائیل استعمال کرتی ہیں ,,,ادی طرح ججز, ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنررلز,اٹارنی جنرلز و جونئیرز سمیت تعینات کرواتیں ہیں جو میرٹ کے قتل کے بعد ہوتا ہے,,,,,,, نتیجہ نا اہل وکیل, نا اہل,جج, نا اہل سرکاری عہدیدار,نا اہل عملہ, ایڈوکیٹ جنرلز,,,,,,,,,,, نتیجہ انصاف کا خون,,,,,,,, عام وکیل ,,,,,, عوام بد حال,,,,,,,,,,,,
(8) فراڈ ٹائیپ این جی اوز کی بھر مار:
اور دیگر درجنوں عوامل ہیں جن میں سے
یہ چند حقائیق ہیں جو تلخ ہیں.,,,,,,,,, مجھے علم ہے کہ میرے بہت سے دوستوں کو بہت ناگوار گزرے گا,,,,,, مگر کیا کہوں,,,,, سچ لکھتا ہوں ,,,,سچ سنتا ہوں اور سچ ہی پسند ہے کہ اللہ جل جلالہ کا حکم ہے
کونو مع الصادقین,,,,,,, سچوں کے ساتھ ہو جائو,,,,,,,
مجھے یقین ہے اگر ہم بالا قباہتوں سے جان چھڑا لیں, علم کو ہتھیار بنا لیں, دیانت, امانت, حفاظت, یقین محکم کو ایمان بنا لیں تو کوئی وجہ نہیں.یہی معاشرہ آپ کو پھر سے دانشور بھی کہے گا اور آپکی جوتیاں جو تیاں سیدھی کرے گا بجائے انگلی اٹھانے کے,,,,,
احقر کا زاتی تجربہ ہے آپ صاحب کردار بنیئے رب کریم آپ کا دین,دنیاء, آخرت سب بہترین فرما دے گا,,,,,,,,,,,,,, مقصد اصلاح ہے دل آزاری یا تضحیک نہیں کہ میں خود ادنی سا وکیل ہوں اور اصلاح گھر سے شروع ہوتی ہے,,,,,,,,,,
افراد کے ہاتھوں میں.ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
والسلام:
احقر العباد:
زاہد فاروق مزاری
سیئنیرایڈوکیٹ ہائی کورٹ کراچی ,,,,,,,, 22-6-2019