02/06/2026
پاکستان میں ایک عجیب المیہ ہے…
لوگ بیماری چھپاتے چھپاتے موت کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔
شوگر ہے… لیکن کسی کو بتایا نہیں۔
بلڈ پریشر سالوں سے ہے… مگر دوا “کبھی کبھار” لیتے ہیں۔
چھاتی میں درد ہو رہا ہے…کہتے ہیں گیس ہوگی۔
خون آ رہا ہے…کہتے ہیں بواسیر ہوگی۔
وزن تیزی سے کم ہو رہا ہے…کہتے ہیں کمزوری ہے۔
اور پھر ایک دن اچانک وہی انسان ایمرجنسی میں پہنچ جاتا ہے۔
آکسیجن لگی ہوتی ہے۔
گھر والے رو رہے ہوتے ہیں۔
اور سب کے منہ پر ایک ہی جملہ ہوتا ہے:
“ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا حالت اتنی خراب ہے…”
حالانکہ جسم کئی مہینوں سے چیخ چیخ کر بتا رہا ہوتا ہے۔
اصل مسئلہ بیماری نہیں…. ہماری “انکار کی عادت” ہے۔
ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں کوئی بڑی بیماری نہ نکل آئے۔
اسی خوف میں ہم ٹیسٹ نہیں کرواتے۔
ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے۔
اور پھر وہی بیماری خاموشی سے بڑھتی رہتی ہے۔
پاکستان میں ہزاروں لوگ کینسر، دل کے امراض، شوگر، گردوں کی بیماریوں، اور ہیپاٹائٹس کی وجہ سے نہیں…
بلکہ “دیر سے تشخیص” کی وجہ سے مرتے ہیں۔
کیونکہ ہم آخری stage تک انتظار کرتے ہیں۔
یاد رکھیں…
ابتدائی بیماری سستی ہوتی ہے۔ آخری stage بہت مہنگی پڑتی ہے۔
ابتدا میں شوگر صرف ایک گولی مانگتی ہے… بعد میں ڈائیلاسز مانگتی ہے۔
ابتدا میں بلڈ پریشر صرف احتیاط مانگتا ہے…بعد میں فالج دے جاتا ہے۔
ابتدا میں ایک چھوٹا ٹیسٹ کافی ہوتا ہے… بعد میں پورا خاندان بک جاتا ہے۔
اور سب سے تکلیف دہ چیز کیا ہے؟
وہ مریض جو کہتے ہیں:
“اگر پہلے پتہ چل جاتا تو شاید بچ جاتے…”
اپنے جسم کو ignore کرنا بہادری نہیں۔ اپنا چیک اپ کروانا کمزوری نہیں۔
ہر سال ایک بنیادی طبی معائنہ کروائیں۔
بلڈ پریشر، شوگر، وزن، خون، جگر، گردوں کے بنیادی ٹیسٹ…
یہ خرچہ نہیں، اپنی زندگی میں سرمایہ کاری ہے۔
کیونکہ بعض اوقات…
انسان بیماری سے نہیں مرتا، وہ صرف وقت پر ڈاکٹر کے پاس نہیں پہنچتا۔