26/09/2026
عدالت نے آپ کو باعزت بری کر دیا، مگر پولیس کا ریکارڈ اب بھی آپ کو ملزم لکھ رہا ہے؟ یہ ایک نوجوان کی آب بیتی ہے جس کا بیرونِ ملک جانے کا خواب ایک پتنگ کے مقدمے کی وجہ سے خطرے میں پڑ گیا، اور پھر لاہور ہائی کورٹ نے وہ فیصلہ سنایا جو آج ہزاروں لوگوں کے کام آ سکتا ہے۔
مقدمہ کی تفصیل: عبدالرحمٰن فریاد بنام حکومتِ پنجاب وغیرہ
رِٹ پٹیشن نمبر: 40844/2025 (فیصلہ مورخہ 18 جولائی 2025 - رپورٹ شدہ بطور 2025 LHC 5162)
اپریل 2024 کی ایک صبح لاہور میں عبدالرحمٰن فریاد نامی نوجوان اپنے ساتھی کے ساتھ رکشے میں جا رہا تھا کہ پولیس نے روک کر الزام لگایا کہ ان کے پاس پتنگیں اور ڈور ہیں۔ تھانہ نواں کوٹ میں پتنگ بازی کی ممانعت کے قانون کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ پولیس نے زیر دفعہ 173 ضابطہ فوجداری کے تحت چالان متعلقہ عدالت میں جمع کروایا جس کے بعد عدالت نے ملزمان پر فردِ جرم عائد کی، دورانِ ٹرائل ملزم عبدالرحمن فریاد نے دفعہ 249-A ضابطہ فوجداری کے تحت بریت کی درخواست دائر کی۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیا تو ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملے اور یوں عدالت نے 20 دسمبر 2024 کو دونوں ملزمان کو بری کر دیا۔ قانون مجسٹریٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر الزام بے بنیاد لگے یا سزا کا کوئی امکان نہ ہو تو وہ پورا ٹرائل چلائے بغیر ہی ملزم کو بری کر دے۔ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل بھی نہیں کی، یوں یہ بریت حتمی ہو گئی۔
اصل مسئلہ تب شروع ہوا جب عبدالرحمٰن نے برطانیہ جانے کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ بنوایا۔ سرٹیفکیٹ تو مل گیا مگر اس پر وہی پرانی ایف آئی آر درج تھی۔ عدالت کی نظر میں وہ بے گناہ تھا، مگر سرکاری ریکارڈ پر اس کے نام کے ساتھ مجرمانہ ریکارڈ لکھا تھا۔ اس نے ہوم سیکرٹری پنجاب کو درخواست دی، جواب نہ آیا تو ہائی کورٹ گیا، عدالت نے 15 دن میں فیصلے کا حکم دیا، پھر بھی عمل نہ ہوا تو توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی۔
آخرکار محکمے نے انکار کر دیا اور کہا کہ ایف آئی آر کا ریکارڈ پولیس رولز کے تحت 60 سال تک محفوظ رکھنا لازمی ہے، اس لیے اسے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ عبدالرحمٰن نے ہمت نہ ہاری اور آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دوبارہ ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی۔ یہ وہ حق ہے جس کے تحت کوئی بھی شہری سرکاری ادارے کی زیادتی کے خلاف براہِ راست ہائی کورٹ جا سکتا ہے۔
18 جولائی 2025 کو جسٹس عبہر گل خان صاحبہ نے اس معاملے کی سماعت کی اور فیصلہ تحریر کیا۔
حکومت پنجاب کے وکیل نے پولیس رولز، 1934ء میں کی گئی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اب ایف آئی آر رجسٹر کو ڈیجیٹل شکل میں ایک مرکزی سرور پر محفوظ کیا جانا لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس بنیاد پر یہ استدلال پیش کیا گیا کہ کسی شخص کے خلاف درج ایف آئی آر سمیت اس کے مجرمانہ ریکارڈ کو، حتیٰ کہ اس شخص کے بری ہونے کی صورت میں بھی، حذف نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکم دیا کہ پولیس اپنے اندرونی ریکارڈ میں ایف آئی آر کا ریکارڈ رکھ سکتی ہے، مثلاً اعداد و شمار اور اداروں کے درمیان معلومات کے لیے، مگر یہ ریکارڈ کسی بری شدہ شخص کو بدنام کرنے یا نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔ جب عدالت کسی کو بری کر دے اور فیصلہ حتمی ہو جائے تو قانون کی نظر میں وہ الزامات سے مکمل طور پر آزاد ہے۔ بریت کے بعد بھی کریکٹر سرٹیفکیٹ پر ایف آئی آر لکھنا آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے، جو ہر پاکستانی کی عزت اور وقار کی ضمانت دیتا ہے۔
لہٰذا عدالت نے حکم دیا کہ عبدالرحمٰن کو نیا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے جس میں اس ایف آئی آر کا کوئی ذکر نہ ہو، اور فیصلے کی کاپی آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی بھیجی تاکہ اس پر سختی سے عمل ہو۔