Hazrat Allama Sanabil Raza Khan Qadri Hashmati

Hazrat Allama Sanabil Raza Khan Qadri Hashmati Khanqah E Aliyah Qadriyah Razviyah Hashmatiyah

Share To Everyone!!!
04/09/2025

Share To Everyone!!!

02/09/2025
Walid E Pak Huzoor Sarkar Gaus E Azam RadiAllahuAnhu
30/01/2025

Walid E Pak Huzoor Sarkar Gaus E Azam RadiAllahuAnhu

29/01/2025
Shab E Meraj Ki Mukhtasar Malumat Read & Share
27/01/2025

Shab E Meraj Ki Mukhtasar Malumat Read & Share

KHUDAYA BAHAQQE BANI FATIMAKI BAR QAUL E IMAN KUNAM KHATMARADIALLAHU ANHUM
16/07/2024

KHUDAYA BAHAQQE BANI FATIMA
KI BAR QAUL E IMAN KUNAM KHATMA
RADIALLAHU ANHUM

04/02/2024

Contact On Instagram Page Instagram/chamanefatimi

Hamara Instagram Page Follow Kare Link Par Click Kare
26/12/2022

Hamara Instagram Page Follow Kare

Link Par Click Kare

267 Followers, 579 Following, 44 Posts - See Instagram photos and videos from 🌹Chaman E Fatimi🌹 ()

*💫عقائد اہل سنت قرآن و حدیث کی روشنی میں (قسط دوم)💫**✨تعظیم سرکار مصطفی علیہ التحیۃ والثناء*حسب الحکم*محقق عصر رئیس التح...
13/12/2022

*💫عقائد اہل سنت قرآن و حدیث کی روشنی میں (قسط دوم)💫*

*✨تعظیم سرکار مصطفی علیہ التحیۃ والثناء*

حسب الحکم
*محقق عصر رئیس التحریر علامہ مولانا مفتی محمد فاران رضا خان صاحب قبلہ حشمتی دامت برکاتہم العالیہ*

از:- علامہ مولانا غلام ناصر حشمتی ناصری دامت برکاتہم العالیہ

٧٨٦/٩٢/٥٥٥

غوث اعظم بمن بے سر و ساماں مددے
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے

سرکار اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی المولیٰ عنہ فرماتے ہیں،
بحمداللہ تعالٰی مسلمانوں کے ایمان میں تعظیمِ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عین ایمان ایمان کی جان ہے اور علی الاطلاق مطلوب شرع، تو جو کچھ بھی جس طرح بھی جس وقت بھی جس جگہ بھی تعظیمِ اقدس کے لئے بجالائے خواہ وہ بعینہٖ منقول ہو یا نہ ہو سب جائز و مندوب ومستحب و مرغوب و مطلوب و پسندیدہ و خوب ہے جب تک اُس خاص سے نہی نہ آئی ہو جب تک اُس خاص میں کوئی حرجِ شرعی نہ ہو، وہ سب اس اطلاق ارشادِ الٰہی و تعزروہ و تؤقروہ میں داخل اور امتثال حکم الٰہی کا فضل جلیل اسے شامل ہے ولہذا ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ جس قدر ادب وتعظیم حبیب رب العالمین جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں زیادہ مداخلت رکھے اُسی قدر زیادہ خوب ہے، فتح القدیر امام محقق علی الاطلاق ومنسک متوسط وفتاوٰی عٰلمگیریہ وغیرہا میں ہے :
کل ماکان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا
جس قدر بھی ادب وعزت میں کامل ہو اتنا ہی زیادہ اچھا ہے۔

امام ابنِ حجر مکّی __جوہر منظم__ میں فرماتے ہیں: تعظیم النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیھا مشارکۃ اللّٰہ تعالٰی فی الالوھیۃ امر مستحسن عند من نوراللّٰہ ابصارھم ۔

وہ لوگ جنہیں اللہ تعالٰی نے آنکھوں کا نور عطا فرمایا ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کی تمام اقسام وصورتوں کو امر مستحسن تصوّر کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں ہرگز باری تعالٰی کے ساتھ شرکت کا کوئی پہلو نہیں۔
(فتاویٰ رضویہ شریف، جلد ٥، صفحہ ٦٥٢)

نیز دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں؛
"ان کی(آقا علیہ السلام کی) تعظیم ان کی محبت، ان کی ثناء ان کی مدحت سب عین ایمان ہے اور اس کا اظہار واعلان فرض اہم اور ان کا ذکر عین ذکر الٰہی، ان کی ثناء عین حمد الٰہی۔۔۔"
(ایضاً، جلد ٢١، صفحہ ٥٩٩)

ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں سرکار میرے،
"نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر مسلمانوں کا عین ایمان ہے اور اس کی خوبی وتعریف قرآن عظیم سے مطلقاً ثابت ہے۔

قال ﷲ تعالٰی:

انّا ارسلنٰک شاھداومبشرا ونذیرا لتؤمنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقروہ

بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اورخوشی اور ڈرسناتا تا کہ اے لوگو! تم ﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔

وقال ﷲ تعالٰی:
ومن یعظم شعائر ﷲ فانھا من تقوی القلوب
اور جو ﷲ کے نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔

وقال ﷲ تعالٰی: ومن یعظم حرمات ﷲ فھو خیر لہ عند ربہ۔
اور جو ﷲ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے

پس بوجہ اطلاق آیات حضوراقدس صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم جس طریقہ سے کی جائے گی حسن و محمود رہے گی اور خاص طریقوں کے لئے جداگانہ ثبوت کی ضرورت نہ ہوگی۔۔۔"
(ایضاً، جلد ٢٣، صفحہ ٧٦٥)

اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے؛
لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ
تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔

امام قاضی عیاض مالکی رضی المولیٰ عنہ زیر آیت مذکورہ فرماتے ہیں؛
قال المبرد تعزروہ : تبالغوا فی تعظیمہ
"مبرد نے کہا "تعزروہ" کا معنی یہ ہے کہ تم میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں مبالغہ کرو"
(شفا شریف)

اور فرماتا ہے رب العالمین؛
فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠
تو وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔

اور فرماتا ہے؛
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے ۔

اور فرماتا ہے؛
لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ
رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔

اور فرماتا ہے؛

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُۙ-وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍؕ-اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ٘-وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّؕ-
اے ایمان والو!نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اجازت نہ ہو جیسے کھانے کیلئے بلایا جائے۔ یوں نہیں کہ خودہی اس کے پکنے کاانتظار کرتے رہو۔ ہاں جب تمہیں بلایا جائے تو داخل ہوجاؤ پھرجب کھانا کھا لوتو منتشر ہو جاؤ اور یہ نہ ہو کہ باتوں سے دل بہلاتے ہوئے بیٹھے رہو۔بیشک یہ بات نبی کو ایذا دیتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں شرماتا نہیں۔

اور فرماتا ہے؛
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو۔

اور فرماتا ہے؛
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ
اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت(ضائع ) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔

اور فرماتا ہے،
اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ
بےشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے‌۔

فرماتا ہے تمہارا رب تعالیٰ؛
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اے ایمان والو راعنانہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

اور فرماتا ہے اللہ عز شانہ
وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُؕ-قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ
لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْؕ
اور اے محبوب! اگر آپ ان سے پوچھیں تو کہیں گے کہ ہم تو صرف ہنسی کھیل کر رہے تھے ۔تم فرماؤ: کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی مذاق کرتے ہو۔بہانے نہ بنا ؤ تم ایمان ظاہر کرنے کے بعد کافر ہوچکے۔

مسلمانوں! مسلمانوں! بارگاہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ سے اعلان کیا جا رہا ہے، سنو سنو! گوش ہوش سے سنو نہ بلکہ گوش قلب سے سنو! جبار و عزیز عزوجل تمہیں حکم دیتا ہے کہ میرے محبوب کی غایت درجہ تعظیم کرو، وہاں سے فرمان جاری ہوتا ہے محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کرنے والے ہی کامیاب ہے، خبردار حضور اکرم کے بلانے پر سارے کاموں کو چھوڑ کر فوراً حاضر دربار ہو، خبردار انہیں اپنے جیسا نہ گرداننا نہ انہیں ایسے پکارنا جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو بلکہ حد درجہ ادب کے ساتھ یا رسول اللہ یا حبیب اللہ کہنا۔صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ ان کا پیارا رب ان کی بارگاہ کے آداب سکھاتا ہے کہ خبردار ان کے دربار میں کاشانۂ اقدس میں بے اجازت ہرگز داخل نہ ہونا کہ یہاں بے اجازت جبرئیل آتے نہیں۔ خبردار! کسی بھی معاملے میں ان سے آگے نہ بڑھنا، خبردار ان کے حضور آواز اونچی نہ کرنا، ان کے لئے ایسے الفاظ نہ استعمال کرنا جس میں توہین کا شائبہ بھی ہو یا ذو معنی ہو یا تصغیری الفاظ ہو۔ اور سن لو! اگر ایسا نہ کیا محبوب کی بارگاہ کا پاس نہ رکھا، ان کی کسر شان کی تو کافر ہو چکے ایمان لانے کے بعد، سارے اعمال برباد و حبط، لاکھ برس کی عبادتیں بھی ہو تو منہ پر ماری جائے گی۔
اے عزیز تو سمجھا کیا ہے؟

ادب گاہسیت زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا

سرکار جنید و حضور بایزید یکے از اکابر اولیاء ہیں، اس بارگاہ بے کس پناہ میں صحابہ کرام اپنے سرکار کی حد درجہ تعظیم بجا لاتے، سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب میں ساکت و جامد رہتے،
روی اسـامـة بـن شـريك، قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه حوله كانما علی روسهم الطير۔
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے اردگرد بیٹھے ہوۓ تھے یوں کہ گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں۔
(ابوداؤد شریف، حدیث ٣٨٥٥)

حدیث پاک میں ہے؛
٣٨- عن عمرو بن العاص قال: ما كان احد احب الى من رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا اجل في عيني منه وما كنت اطيق ان املاء عينى منه اجلالا لـه ولو سئلت ان اصفه ما اطقت لاني لم اکن املاء عينى منه .
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: مجھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی محبوب نہ تھا اور نہ میری نگاہ میں کوئی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سے زیادہ بزرگ اور معظم تھا اور میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت شان کی وجہ سے آپ کو آنکھ بھر کر دیکھ نہ سکتا تھا اور اگر مجھ سے پوچھا جاۓ کہ میں آپ کا حلیہ بیان کروں تو میں بیان نہیں کر سکتا۔ اس لئے کہ میں نے کبھی حضور اقدس کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھا۔
(صحیح مسلم کتاب الایمان' باب كون الاسلام يهدم ما قبله رقم الحديث: ۳۲۱)

حتی کہ فرماتے ہیں حضرت عروہ بن مسعود رضی المولیٰ عنہ
"والله لقد وقدتُ على الملوك ووفدت على قيصر وكسرى والنجاشي، والله إن رأيت ملكا قط بعظمة أصحابه ما يعظم أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم محمدا صلى الله عليه وسلم"
واللہ ( رب العزت کی قسم! )میں بادشاہوں کے درباروں میں وفد لے کر گیا ہوں ۔ میں قیصر و کسری اور نجاشی کے درباروں میں وفد لے کر گیا ہوں لیکن خدا کی قسم! میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا کہ اس کے در باری اس کی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں۔
(صحیح بخاری: کتاب: الشروط باب: الشروط في الجهاد، رقم الحديث : ۲۷۳۳-۲۷۳۱)

حضرت قطب عالم امام المناظرین علی الاطلاق شیر بیشۂ سنت مظہر اعلی حضرت رضی المولیٰ عنہ فرماتے ہیں؛
شفا شریف میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے کہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالے علیہ وسلم سے کوئی بات پوچھنا چاہتا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے برسوں اس کے پوچھنے سے رکا رہتا تھا۔اور امام ابوابراہیم تحلیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ جب کبھی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر پاک کرے یا سنے تواس وقت اسی طرح خضوع و خشوع توقر و سکون بجالائے اور حضو صلی اللہ تعالی علیہ و علی آلہ وسلم سے ہیبت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اجلال و ادب میں اسی طرح مصروف ہو جائے جس طرح حضور کی حیات ظاہری میں کرتا ۔ جبکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اسکی ظاہری آنکھوں کے سامنے جلوہ فرما ہوتے۔

امام قاضی عیاض رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سلف صالحین اور ہمارے ائمہ ماضییین رضی اللہ عنہم کی بھی یہی سیرت تھی ۔ حضرت امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ جب حضورصلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ وسلم کا ذکر شریف فرماتے یا سنتے تو ان کا رنگ بدل جا تا اور ان کی پیٹھ جھک جاتی ۔ اور جب کوئی شخص حضور صلی اللہ تعالے علیہ و علی آلہ وسلم کی کوئی حدیث دریافت کرنے آتا تو غسل فرماتے ، نئے عمدہ کپڑے پہنتے، اپنا جبہ مبارکہ پہنتے ، عمامہ باندھتے ، سر مبارک پر چادر اوڑھتے ،خوشبو لگاتے ، تخت پر بیٹھتے ،عود سلگاتے اور نہایت خضوع و خشوع کے ساتھ حدیث بیان فرماتے ۔کہ اس تخت پر حدیث شریف سناتے وقت کے سوا کبھی نہ بیٹھتے اور فرماتے کہ میں محبوب رکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی تعظیم کروں۔

ایک روز حدیث شریف بیان فرمارہے تھے کہ سولہ بار بچھو نے ڈنک مارا ۔ آپ کا رنگ بدل بدل جاتاتھا، چہرۂ مبارک زرد ہو ہو جاتا تھا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پاک کو سنانا بند نہ فرمایا فارغ ہونے کے بعد فرمایا انما صبرت إجلالا لحديث رسول الله صلى الله تعالى عليه وعلى اله وسلم یعنی یہ جو میں نے سولہ بار بچھو کے ڈنک مارنے پر صبر کیا یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پاک کے ادب میں ۔ حدیث پاک سناتے وقت اس قدر روتے کہ لوگوں کوان پر رحم آتا۔

امام جعفر بن محمدصادق رضی اللہ تعالی عنہما بہت مزاح فرمانے والے اور بہت مسکرانے والے تھے لیکن جب ان کے سامنے حضور صلی اللہ تعالی علیہ و علی آلہ و سلم کا ذکر پاک ہوتا تو ہیبت و تعظیم کی وجہ سے ان کے چہرے کا رنگ زرد پڑ جایا کرتا۔امام ابن المعيب رحمتہ اللہ تعالی علیہ کی خدمت میں ایک صاحب حاضر ہوئے ۔ آپ لیٹے ہوئے تھے انھوں نے آپ سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک حدیث پوچھی، آپ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ اوران سے وہ حدیث بیان فرمائی ۔ انھوں نے عرض کی میری خوشی یہ تھی کہ آپ تکلیف نہ فرماتے اور لیٹے ہی لیٹے حدیث بیان فرمادیتے۔ فرمایا کہ میں نے اس بات کو مکروہ سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تم سے بیان کروں۔ اور اس حال میں لیٹا رہوں ۔ قتادہ باوضو حدیث شریف سنانے کو مستحب جانتے ۔ امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ اس بات کو مکروہ جانتے کہ راستے میں یا کھڑے کھڑے یا جلدی میں حدیث شریف سنائیں۔ ہشام بن غازی نے امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے جبکہ وہ کسی جگہ کھڑے ہوئے تھے کوئی حدیث شریف پوچھی ۔ آپ نے ان کو بیس کوڑے مارے۔ پھر ان پر رحم فرمایا۔ اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیس حدیثیں اپنے دولت کدے پر لاکر سنائیں۔ ہشام فرماتے ہیں کاش مجھے اور زیادہ کوڑے مارتے اور پھر اور زیادہ حدیثیں سناتے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما منبر اقدس کی اس جگہ کو جہاں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ وسلم تشریف فرما ہوا کرتے تھے ، اپنے ہاتھ سے مس کر کے اپنے چہرے پر پھیرتے۔
(فتاویٰ حشمتیہ شریف، جلد ١، صفحہ ٣٥٤)

حضرت محمد بن سحنون رضی المولیٰ عنہ فرماتے ہیں؛
اجمع العلماء ان شاتم النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم المنتقص لہ کافر والوعید جارعلیہ بعذاب ﷲ تعالٰی لہ وحکمہ عند الامۃ القتل ومن شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۔

یعنی اجماع ہے کہ حضور اقدس صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذاب الٰہی کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیک وہ واجب القتل ہے اور جو اس کے کافر و مستحق عذاب ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہوگیا۔

شفا شریف و فتاویٰ رضویہ شریف۔

سگ بارگاہ جنید زماں
فقیر غلام ناصر حشمتی ناصری غفرلہ القوی
*(ماخوذ از ماہنامہ حشمت ضیا )*

Jyada Se Jyada   Kare
27/09/2022

Jyada Se Jyada Kare

Address

Dargah Mazhar-e-Alahazrat, Khanqah-e-A'alia, Hashmatiah, Hashmat Nagar
Pilibhit

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hazrat Allama Sanabil Raza Khan Qadri Hashmati posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share