08/09/2021
ایک جنازہ اٹھا مقتل سے عجب شان کے ساتھ،
جسے سج کر کسی فاتح کی سواری نکلے،
۔
ہم کو ہر دور کی گردش نے سلامی دی ہے،
ہم وہ پتھر ہیں جو ہر دور میں بھاری نکلے،
۔
عکس کوئی ہو خدوخال تمھارے دیکھوں،
بزم کوئی مگر بات تمھاری نکلے،
۔
اپنے دشمن سے میں بے وجہ خفا تھا،
میرے قاتل تو میرے اپنے حواری نکلے!
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
پی سی:
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔