Farebi bi hoon zidi bi hoon badkalam bi
Masoomiat kho de ha main ne wafa karty karty
24/06/2022
لگدا اے آجکل دی کڑیاں انیاں ہو گیاں نیں
😁😁😁😁🙈🙈🙈🙈۔ یار یہ ٹک ٹاک نے عجیب ہی آگ لگا دی ہے بڈھوں کی بھی لاٹریاں نکل رہی ہیں آفرین ہے
25/02/2021
اپنی زندگی کا ایک اصول بناو✌
جو جلتا ہے اسے اور جلاوء 💓
22/08/2020
خون سےچراغ دین جلایا حسین نے
رسم وفاکوخوب نبھایا
حسین نے
خودکوایک بوندپانی نہ مل سکا
کربلاکوخون پلایا
حسین نے
حسین جیسی نمازکون
پڑھے گاجہاں میں
سجدہ جو کیاتوسر نہ
اٹھایا حسین نے
کردیاسب کچھ خداکی راہ میں قربان
اصغرساپھول بھی نہ بچایا حسین نے.
10/08/2020
خلافت عثمانیہ کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید خان رحمہ اللہ نے جب جرمنی کے ساتھ ریلوے لائن کا معاہدہ کیا تھا ، تو ایک شرط یہ بھی رکھی تھی:
" جب کاریگر کام کرتے ہوئے مدینہ پاک سے بیس کلو میٹر دور رہ جائیں گے تو اپنے ہتھوڑوں پر کپڑا باندھ لیں گے "
( تاکہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک شہر میں شور کی آوازیں نہ آئیں )
اللہ اللہ ، کیسے مودب تھے وہ لوگ۔
خلافت عثمانیہ کے 34ویں خلیفہ عبدالحمید ثانی اپنے وقت کے بہت بڑے شاعر اور عاشق رسولﷺ گزرے ہیں...
آپ کے دورِ خلافت میں استنبول سے مدینہ شریف جانے کے لئے ٹرین سروس شروع کی گئی....
آج بھی وہ ریلوے لائن مدینہ شریف میں بچھی ھوئی ھے۔ اور ترکی ریلوےاسٹیشن کے نام سے مشہور ھے....
اُس زمانے میں ٹرین کا انجن کوئلہ کا ھوا کرتا تھا، مکمل تیاریاں ھونے کے بعد مدینہ شریف میں ترکی اسٹیشن پر سلطان عبدالحمید ثانی کو اوپنگ (افتتاح) کے لیے بلایا گیا تو سلطان نے دیکھا۔
کہ کوئلہ والا انجن بھڑ بھڑ آوازیں نکال رہا ھے۔ تو
سلطان عبدالحمید غضبناک ھوگئے۔ اور کچرا اٹھا کر انجن
کو مارنا شروع کر دیا۔
اور کہا۔
حضور ﷺ کے شہر میں اتنی تیز آواز تیری....؟
*ادب گاہسیت زیر آسماں از عرش نازک تر*
*نفس گم کردہ می آید جنیدؓ و بایزیدؓ اینجا*
تقریباؔؔ 100 سال کا عرصہ ھونے کو آیا،
اس وقت جو انجن بند ھوا تھا۔
وہ آج بھی ایسے ھی مدینہ شریف میں رکھا ھوا ھے.
جو ترکی اسٹیشن سے مشہور ھے،
اس قدر ادب کہ وہ انجن کی بلند آواز کو بھی شہرِ رسولﷺ میں پسند نہیں کرتے تھے تو سوچو
وہ اپنے محبوب سے کس قدر محبت فرماتے ھوں گے..!!
یہ عشق تھا۔ یہ ادب تھا۔ جو ان کے سینوں میں موجزن تھا،
اللہ تعالی ہمیں بھی ایسا عشق و ادب اور شہر رسولﷺ کی باادب حاضری نصیب کرے..۔۔۔۔
امین یا رب العالمین
12/05/2020
💖 غزوہ بدر اور معجزاتِ رسول ﷺ 💖
غزوہ بدر میں حضرت عکاشہؓ بن محض بڑی دلیری سے لڑ رہے تھے کہ ان کی تلوار ٹوٹ گئی۔ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی کی چھڑی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چھڑی حضرت عکاشہؓ کو دے کر فرمایا ۔ ’’عکاشہؓ جاؤ جنگ جاری رکھو۔‘‘
حضرت عکاشہؓ نے چھڑی ہاتھ میں لی تو وہ مضبوط، چمکدار اور تیز دھار تلوار بن گئی۔ حضرت عکاشہؓ نے جنگ بدر کی فتح تک اس تلوار کو استعمال کیا۔ اس تلوار کا نام ’’العون‘‘ تھا۔ 💚
غزوہ بدر کے دوران ہی ایک اور صحابی مسلمہ بن اسلمؓ کی تلوار ٹوٹ جانے پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھجور کی تازہ ٹہنی عنایت کی جو تیز دھار تلوار میں تبدیل ہوگئی۔ 💚
حضرت عبداللہ بن حجشؓ کی تلوارایک جنگ کے دوران ٹوٹ گئی۔ تو سیدنا علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں طلب کرکے کھجور کی شاخ عنایت کی اور دشمنوں پر حملہ کا حکم دیا۔ کھجور کی ٹہنی تلوار بن گئی۔ اس تلوار کا نام ’’عرجون‘‘ ہے۔ 💚
❤کتاب مُحَمَّد رسول اللہ ﷺ
جلد دوم ❤
🌸 مصنف خواجہ شمس الدین عظیمی 🌸
Be the first to know and let us send you an email when Tujhe IshQ Ho Kudha karey posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.